27 جون 2026 - 17:37
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں میں شدت

الخلیل / رام اللہ: اسرائیلی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں پر حملے کرتے ہوئے فلسطینیوں کے گھروں اور زرعی اراضی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انگور کے باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور کسانوں کی املاک تباہ ہو گئیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کی صبح اسرائیلی آبادکاروں کے ایک گروہ نے الخلیل کے مشرق میں واقع وادی سعیر کے علاقے میں ایک فلسطینی شہری کے گھر پر دھاوا بول دیا، جس سے اہلِ خانہ، خصوصاً خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر میں بھی اسرائیلی آبادکار زرعی اراضی میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے ایک فارم کی باڑ توڑنے کے بعد اپنے مویشی کھیت میں چھوڑ دیے، جس سے فصلوں اور درختوں کو شدید نقصان پہنچا۔

المغیر زرعی پیداوار کوآپریٹو ایسوسی ایشن کے مطابق، اس حملے میں تقریباً 270 پانچ سال پرانے انگور کے درخت تباہ کر دیے گئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مسلح آبادکاروں کی سرپرستی میں اور اسرائیلی فوج کی موجودگی میں انجام دی گئی۔

ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد حملوں میں گرین ہاؤسز کی تباہی، درختوں کی چوری، پانی کے ذخائر اور آبپاشی کے نظام کو نذرِ آتش کرنے کے علاوہ فلسطینی کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے بھی روکا جاتا رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق، 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے اس کی زرعی اراضی کے ایک حصے تک رسائی بند کر رکھی ہے، جبکہ ان حملوں سے ہونے والا مالی نقصان 30 ہزار شیکل سے تجاوز کر چکا ہے۔

فلسطینی دیوار و آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ مئی کے مہینے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ قدس میں مجموعی طور پر 1,659 حملے کیے، جن میں فلسطینی شہریوں پر تشدد، زرعی زمینوں کی تباہی، کھیتوں کو آگ لگانا، گھروں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha